بھٹکل 7/نومبر (ایس او نیوز) بھٹکل غوثیہ اسٹریٹ میں پمپنگ اسٹیشن سے شرابی ندی میں گھٹر کا پانی چھوڑے جانے کا معاملہ نہایت گھمبیر ہونے کے بعدپیر کو یو جی ڈی کی خصوصی جائزاتی میٹنگ رکھی گئی جس میں اُترکنڑا ضلع انچارج وزیر اور بھٹکل کے رکن اسمبلی منکال وئیدیا نے انڈر گراونڈ ڈرینیج (یو جی ڈی ) سے ہورہے مسائل اور عوام کو ہورہی پریشانیوں کی مکمل معلومات حاصل کرنے کے بعد بھٹکل سمیت کاروار سے تشریف فرما آفسران کو آڑے ہاتھوں لیا اور نہایت گرم ہوتے ہوئے کہا کہ ہم عوام کی پریشانیوں کو دور کرنے کے لئے بڑی مشکل سے کروڑوں روپیہ فنڈ لارہے ہیں لیکن آفسران اے سی کے کمروں میں بیٹھ کر کام کا جائزہ لئے بغیر ہی پوری رقموں کو بے دریغ خرچ کررہے ہیں اور عوام کے مسائل دور کرنے کے بجائے اُن کے مسائل کو بڑھانے میں رقمیں خرچ ہورہی ہیں، منکال وئیدیا نے بھٹکل اسسٹنٹ کمشنر کو حکم دیا کہ وہ اگلے پندرہ دن کے اندر تمام آفسران بشمول کاروار کے واٹر بورڈ اور یو جی ڈی کے انجینئروں ، بھٹکل کے کونسلروں اور بھٹکل کے ذمہ دار وں کو ساتھ لے کر ایک میٹنگ منعقد کرے اور تمام مسائل کو فوری طور پر حل کرنے کے لئے منصوبہ تیارکریں اور اُس پرعملی جامہ پہنائیں۔
واضح رہے کہ حال ہی میں بھٹکل میں ڈینگو بخار پھیلنے اور دولوگوں کی ڈینگو سے مشتبہ موت کے بعد معاملہ اُس وقت بہت زیادہ گرما گیا تھا جب سوشیل میڈیا پر پمپنگ اسٹیشن سے شرابی ندی میں گھٹر کا گندہ پانی چھوڑے جانے کی وڈیو وائرل ہوگئی تھی۔ اس بات کا علم ہوتے ہی کہ بھٹکل میں ڈینگو سمیت کئی دیگر بیماریاں پھیلنے کے لئے انڈر گراونڈ ڈرینیج (یو جی ڈی) کا غیر معیاری کام ذمہ دار ہے اور بیماریاں پھیلانے والے مچھروں کی آفزائش کے لئے یہی ندی میں چھوڑ ا جانے والا گندہ پانی اہم سبب بنا ہوا ہے تو پھر اس کے تدارک کے لئے کوششیں تیز ہوگئیں تھیں، اسی سلسلے میں پیر کو منکال وئیدیا نے بھٹکل تعلقہ انتظامیہ کے میٹنگ ہال (منی ودھان سودھا) میں آفسران کی میٹنگ منعقد کی جس میں کاروار سے اُترکنڑا ڈپٹی کمشنرگنگوبائی مانکر، ضلعی ترقیاتی کاموں کی آفسر(ڈسٹرکٹ سٹی ڈیولپمنٹ پروجکٹ ڈائرکٹر)اسٹیلا ورگھیس،ڈسٹرکٹ واٹر بورڈ اوریو جی ڈی ایکزی کوٹیو انجینئر روی کمار کے ایم، اسسٹنٹ ایکزی کوٹیو انجینر بھاسکر گوڈا، آئی آر بی انجینئر سبرامنیا، بھٹکل اسسٹنٹ کمشنر ڈاکٹر نیئنا، تحصیلدار تیپّے سوامی، بھٹکل ٹاون میونسپل چیف آفسر نیل کنتھ میستا، میونسپل انجیئر ارویندا اور دیگر کئی سرکاری افسران سمیت بھٹکل کے بعض میونسپل کونسلرس، جالی پٹن پنچایت کے بعض کونسلرس اور تنظیم کے ذمہ داران کو شریک کیا گیا تھا۔
ضلعی سطح پر بلائی گئی جائزاتی میٹنگ کی صدارت کرتے ہوئے منکال ویدیا نے کہا کہ بھٹکل میونسپل حدود اور جالی پٹن پنچایت حدود میں یو جی ڈی کے لئے 181 کروڑ روپئے جاری کئے جاچکے ہیں لیکن جو کام ہوا ہے اور عوام جس طرح کے مسائل کا سامنا کررہے ہیں، اُسے لے کرمجھ پر سوال اُٹھائے جارہے ہیں ، میں رکن اسمبلی منتخب ہوکر اب چھ ماہ ہوچکے ہیں، میں نے چھ ماہ تک آپ لوگوں کے کاموں میں مداخلت نہیں کی اوراس لئے خاموش رہا کہ آپ لوگ فری ہوکر کام کرسکیں، لیکن میڈیا میں غوثیہ اسٹریٹ سے ندی میں پانی چھوڑے جانے اور یو جی ڈی کے غیرمعیاری کاموں کی جو رپورٹنگ ہورہی ہے، اس کے باوجود آپ لوگوں نے کوئی کاروائی نہیں کی، اس پر تعجب ہورہا ہے، مجھے لگا تھا کہ آپ کو بھٹکل کے عوام کو ہورہی پریشانیوں کی جانکاری نہیں ہوگی، لیکن آپ لوگوں کو مبارکباد دینا چاہئے کہ آپ لوگوں کو سب کچھ معلوم ہونے کے باوجود اے سی دفاتر میں بیٹھ کر دھڑادھڑ بل پاس کررہے ہیں۔
منکال وئیدیا نے بتایا کہ (ڈسمبر 2014کو) جب وزیراعلیٰ سدرامیا (تنظیم کے صد سالہ جشن کی تقریب میں) بھٹکل آئے تھے تو یو جی ڈی کے مسائل کو حل کرنے کے لئے دو سو کروڑ روپئے جاری کرنے کا وعدہ کیا تھا، پھر کام کا ٹینڈر ہوکر 2019 میں کام شروع کیا گیا تھا ، سن 2022 میں کام مکمل ہونا چاہئے تھا لیکن ابھی تک آدھا کام مکمل نہیں ہو سکا ہے، اور عوام کی شکایتیں بڑھتی جارہی ہیں۔ منکال وئیدیا نے پروجیکٹ ڈائرکٹر اور دیگر منسلک انجینئرس کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے پوچھا کہ کیا آپ نے ابھی تک غوثیہ اسٹریٹ جاکر وہاں کی صورتحال کا جائزہ لیا ہے ؟ آپ حکومت سے تنخواہ کس بات کی لیتے ہو ؟ آپ نے کام کا جائزہ کیوں نہیں لیا اور جائزہ لئے بغیر کنٹریکٹر کو رقم کیوں ریلیز کی۔ منکال وئیدیا نے سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ کوئی ٹھیکیدار خواہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو، اسے بلیک لسٹ کرنے سے وہ دریغ نہیں کریں گے، منکال نےانجینروں کو مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ میں آپ کو تین ماہ کی مہلت دے رہا ہوں، مجھے تمام کام صحیح کرکے دکھانا چاہئے اگر اس مدت میں تمام کام صحیح نہیں ہوا تو آپ کو کام سے معطل کیا جائے گا۔
قریب تین گھنٹوں تک چلی اس میٹنگ میں مقامی کونسلروں اور سماجی کارکنوں نے یو جی ڈی کے علاوہ دیگر اُمور پر بھی وزیر موصوف کی توجہ دلائی ، یو جی ڈی کے کاموں کے لئے سڑک کی کھدائی کے بعد واپس اُس کی بھرپائی میں غیر معیاری کاموں کے ساتھ ساتھ نیشنل ہائی وے پر لائٹنگ نہ ہونے ، ہائی وے کا کام آدھورا ہونے سے ہورہے حادثات، پنچایت علاقوں کے لئے کچروں کی نکاسی کا معاملہ سمیت کئی دیگر اُمور بھی پیش کرتے ہوئے اُس کی یکسوئی کے لئے درخواست کی گئی۔
انڈر گراونڈ ڈرینیج کو لے کر ایک طرف جالی پٹن پنچایت کے رکن ایڈوکیٹ عمران لنکا، سابق میونسپل صدر پرویز قاسمجی اور سابق نائب صدر قیصر محتشم نے پوری بے باکی کے ساتھ آواز اُٹھائی، وہیں جالی پٹن پنچایت کے تحت ہونے والے غیر معیاری کاموں کو لے کر مصباح الحق اور محمد توفیق بیری نے بھی سوالات کئے ، مجلس اصلاح و تنظیم کے صدر عنایت اللہ شاہ بندری ، جنرل سکریٹری عبدالرقیب ایم جے اورتنظیم کے نائب صدر ایس ایم پرویز نے بھی عوام کو ہورہے مسائل کا تذکرہ کرتے ہوئے وزیر وئیدیا کی توجہ مبذول کرائی اور میٹنگ میں موجود انجینرس اور اعلیٰ حکام پر سوالات کی بوچھاڑ کرتے ہوئے بھٹکل میں ہورہے غیر معیاری کاموں کے لئے اُنہیں ذمہ دار ٹہرایا۔
پوری میٹنگ کی وڈیو ریکارڈنگ: